دیار حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ذِکر حبیبﷺ سے پہلے دیارِ حبیبﷺ کا مذکور تقریب سخن کے طور پر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ عقیدت مند آنکھ خاک عرب کو جب محبت بھری نظروں سے دیکھتی ہے تو یثرب و بطحا کا ذرہ ذرہ آفتاب جہاں تاب بن کر چمکتا ہے۔ معلوم ہوتا کہ فرشتے نبیؐ کے مولد و مدفن پر نور کے روشن طبق لے کر اترتے ہیں۔ اور مکہ ومدینہ کی گلیاں ضیا پاشیوں سے بقعہ نور بن گئی ہیں۔ عرب جو روحانیوں کی نگاہ میں ہزار حسن اور لاکھ جلووں کی جنت گاہ ہے۔ چشم دنیا دار اس کے نظارہ ظاہرہ سے گھبرا اٹھتی ہے اور زبان پکار کر کہتی ہے کہ عرب تو سر تاسر صحرا ہےٗ جہاں تپتی ریت سے آتش زباں بگولے اٹھتے ہیں اور زہریلی ہوائیں جھکڑ بن کر چلتی ہیں۔ کوہستانی سلسلے جو دوسری جگہ ہمیشہ روح افزا اور نظر افروز ہوتے ہیںٗ یہاں چتیل پہاڑیاں بن کر رہ جاتے ہیں۔ پانی کی نایابی انسانی آبادی کے لیے مشکلات پید اکرتی ہے۔ لُو کی لپٹ میں کھجوروں کے سوا کوئی درخت سرسبز نہیں ہوتا۔ ہاں سمندر کے کنارے کچھ جاں پرور سبزی و شادابی دکھائی دیتی ہے جہاں آوار و سرگرداں قبائل ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔ کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی بستیاں بھی ہیں۔ ان کی کھیتی باڑی کی ساری امید باران رحمت پر ہے۔ وقت پر برس گیا تو جنگل میں منگل ٗ ورنہ انتظار ہی میں موسم ختم ہوجاتا ہے۔
ملک عرب محل وقوع کے لحاظ سے ایشیاء کا جنوبی خطہ ہے۔ شکل کے لحاظ سے مستطیلٗ جنوب میں زیادہ شمال میں کم۔اس کے مغرب میں بحیرہ قلزمٗ مشرق میں خلیج فارس اور بحیرہ عمان، جنوب میں بحر ہند اور شمال میں ملک شام ہے۔ اس خطے کا مجموعی رقبہ تقریباً بارہ لاکھ مربع میل ہے۔
عرب دنیا سے تقریباً بالکل جدا اور اس کے ملکی حالات دوسرے ملکوں سے بالکل مختلف ہیں۔ اس کے گرد پانی کے قلزم اور اندر ریت کے سمندر۔ اس میں نہ سیاح کے لئے کوئی دلچسپی ہے نہ فاتح کے لئے کوئی کشش۔ ضروریات زندگی کی کمیابی اور اوقات کی فراغت نے ہر عرب کو شاعر، شجاع اور شوریدہ سر عاشق بنا رکھا تھا۔مشاغل کی کمی کی وجہ سے ان وسیع فرصتوں کو گزارنے کا طریقہ اور ہو بھی کیا سکتا تھا۔ شاعر مضامین کے دریا سے موتی نکال نکال کر وقت گزارتا، بہادر خون کی ہولی کھیلنے میں عمر کھوتا اور عاشق کسی آہوئے صحرا کے خیال میں صبح سے شام کردیتا۔ دنیا کے بے کاروں کے لئے یہی اہم کام ہیں جو عمر کھو کر بھی انجام نہیں پاتے۔ علم جو اصلی جوہر ہے اس سے تمام عرب محروم تھا۔ تمام آبادی نوشت وخواند سے بے بہرہ تھی۔ ہاں شاعروں نے عربی زبان کے جوہر خوب چمکائے ۔ چونکہ قبیلے قبیلے میں شاعر موجود تھا اس لئے ہرکہ و مہ کی زبان ایسی منجھ گئی کہ اہل عرب فصاحت میں اوروں کو اپنا ہمسر نہ سمجھتے تھےٗ اور اپنی بلاغت کی بنا پر باقی دنیا کو “عجم” یعنی گنگ کہتے تھے۔
عرب کی شاعری کی کل کائنات فخر نسبٗ اظہار عشق اور اعلان جنگ تھی۔ ان کے تخیل کی پرواز قصائد، رجز اور غزل کی محدود دنیا سے بلند نہ ہوتی تھی۔ ان کا جذبہ خود ستائی اپنے یا اپنے قبیلے کے کارہائے نمایا ں بیان کرتے وقت شریفانہ جذبات کا اور پاک اخلاق کا حامل نہ ہوتا تھا بلکہ اکثر اوقات عورتوں کی عصمت بگاڑنےٗ ڈاکہ ڈالنے اور ظلم کرنے پر بھی فخر کیا جاتا تھا۔ عوام کی بدذوقی کا یہ عالم تھا کہ اخلاق ذمیمہ کی اس علانیہ تبلیغ پر بھی شاعر کی گرمی سخن کی داد دیتے اور واہ واہ کرتے تھے۔
بےشک عرب جنگجو اور شجاع تھے مگر جنگ وجدال کے محرکات عموماً رذیل احساسات ہوا کرتے تھے۔ بعض اوقات تو قبائل میں وجہ جنگ موجود بھی نہ ہوتی تھی۔ مگر جنگ جاری رہتی تھی کبھی کھڑے کھڑے کسی ادنیٰ سی بات پر دودوست بگڑ جاتے اور تلواریں سونت کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے تھے اور مدد کے لئے اپنے اپنے قبیلوں کو پکارتے تھے۔ جو سنتا تھا شمشیر برہنہ علم کئے شریک جنگ ہوجاتا تھا۔ کوئی پوچھتا نہ تھا کہ وجہ نزاع کیا ہے؟
مخلوق کی محبت خدا کی رحمت ہے مگر جب محبت کے بے پایانی کو محدود کر کے کسی فرد واحد میں مرکوز کردیا جائے اور اس حد بندی کی محرک شہوت ہو تو عصمت اور پاکبازی سر پیٹ لیتی ہے۔ عشق و عاشقی کو جب جوانی کی بے قیدی اور بے عنانی کے سپرد کردیا جائے تو درفتنہ باز ہوجاتا ہے اور اس کا ماحصل خسر الدنيا والاخرة ہوتا ہے۔ اہل عرب کے عشق کے عشق کی وارفتگیاں محبوب کے محاسن کی گرویدگی تک محدود نہ تھیں بلکہ یہ لوگ عورت کے التفات کے شجر ممنوعہ کے حاصل کرنے کے علانیہ حلف لیتے اور خواہشات نفسانی پر فخر کیا کرتے تھے۔ ہو نہ ہو ان عشاق کے معیار شرافت سے گرے ہوئے افعال و اقوال سے پناہ پاکر بعض ناعاقبت اندیشٗ خدانا ترس اور بزعم خویش خود دار افراد نے دختر کشی کی ابتدا کی ہوگی۔ کیونکہ اگر ایک طرف عشق یوں بے باک تھا تو دوسری طرف حسن بے حجاب ہر وقت سیاہ کاری کے دامن میں پناہ پانے کے لئے آمادہ تھا۔ میلوں میں بے نقاب عورتوں کی نگاہیں فتنے اٹھاتی تھیں اور ان کی مسکراہٹ بجلیاں گراتی تھی۔ غرض عشق شاعری اور شجاعت جو جذبہ عالیہ کے ساتھ مل کر قوموں کی قسمت کو بدل سکتے ہیںٗ ان میں موجود تو تھے مگر رذیل اخلاق سے مل کر ان کی تباہی کا باعث بن چکے تھے۔
اہل عرب ان عیوب کے ساتھ کچھ خوبیاں بھی رکھتے تھے۔ شجاعت اور سخاوت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تلوار کا دھنی اکثر دل کا غنی ہوتا ہے اس لئے اہل عرب مہمان نواز اور سخی تھے۔ جس کسی کو اپنی پناہ میں لیتے اس کی جان و دل سے حفاظت کرتے تھے۔
اہل عرب کے اخلاق کسی آسمانی کتاب سے ماخوذ نہ تھے اور نہ ان کے اعمال کسی قانون پر موقوف تھے۔ ان کے اوضاع واطوار کو ملک کی آب وہوا نے بے ساختہ طورپر معین و مرتب کردیا تھا۔ ان کی عقیدت کا مرجع خدائے نادیدہ نہ تھا۔ بلکہ شرف انسانی مٹی کی مورتوں اور پتھر کے ترشے ہوئے بتوں کے قدموں میں سربسجود تھا۔ بت پرستی خدا پرستی کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ شیطان نے توحید پر دوطرف سے حملہ کیا ہے ایک تو محبت اور عقیدت کا حیلہ تلاش کیا۔ دوسرے گناہوں سے مضمحل اور چور چور روح کے کان میں افسونپھونکا کہ انسان فطرۃً کمزور ہے۔ نجات کی راہ کسی وسیلہ کے بغیر نہ ملے گی۔ چنانچہ گناہوں سے آلودہ لوگ نیک بندوں کی عظمت کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر ان نیک انسانوں کی محبت کی وسیع وادی میں اس طرح کھو جاتے ہیں کہ اس سے نکلنا بھی چاہیں تو نہیں نکل سکتے۔
جس طرح نشہ شراب سے سر شار پیادہ سوار کا حکم رکھتا ٗ اسی طرح بادۂ عقیدت کا مخبور بھی بہت اونچی فضا میں اڑتا ہے۔ اس کی عقیدت کا مقام اتنا بلند اور وسعت اتنی ہمہ گیر ہوتی ہے کہ کل کائنات ایک ذرۂ خاک دکھائی دیتی ہے۔ عقیدت کی یہ ہمی گیری خدا کی بے پایاں عظمت کو بھی آغوش میں لینے کی سعی کرتی ہے۔ وہ اس طرح کہ انسان جس سے عقیدت رکھتا ہے۔ پہلے تو وہ اس کو خدا کا مقرب اور حاشیہ نشین تصورکرتا ہے۔ کبھی خال کے مزاج میں دخیل خیال کرتا ہے اور کبھی کبھی اپنے محبوب کو معبود سے بھی بلند پاتا ہے۔
دنیا ہمیشہ سے محبت اور عقیدت کی برپا کردہ تاریکیوں میں گھری رہی ہےٗ ہادیان برحق نورانی شریعتوں کے ساتھ دنیا میں آئے تاکہ پرستش غیر اللہ کی ضلالت سے انسان کو نکالیں۔ مگر عوام کو تو اپنے جذبۂ عقیدت کی تسکین کے لئے کوئی پیکرِ محسوس چاہیے۔ اس لئے بتوں کی مذمت کرنے والے نیک لوگ موت کے بعد خود بتوں کی طرح پوجے گئے۔ گناہگار انسان آلودگیوں کی وجہ سے خدا کی بخششوں سے مایوس ہوجاتا ہے۔ اس لئے کسی واسطہ اور وسیلہ کے طفیل خدا کے غضب سے بچنا چاہتا ہے۔ مجبوراً خدا کا قیاس امراء اور سلاطین پر کرتا ہے۔ جو نبض شناس وزراء اور ہوشیار مشیروں کے ہاتھ میں موم کی ناک ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مشرک جہلاء کی بڑی دلیل یہی ہے کہ جب حکام کے دربار میں وسیلے کی سفارش کے بغیر کام نہیں نکلتا ٗ تو خدا کے حضور میں انسانی سفارشوں کے بغیر کیونکر بار مل سکتا ہے۔ دنیا میں بہت تھوڑے لوگ ایسے ہیں جنہیں خدا کی ہستی سے انکار ہو۔ ہاں ایسے لوگوں کی کثرت ہے جو خدا کے وجود کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن ان کے اقرار کا انداز کفر وانکار سے بدتر ہوتا ہے۔ کیونکہ عقل انسانی باری تعالیٰ کی صفات سمجھے میں ٹھوکر کھا جاتی ہے۔ چنانچہ مشرکین عرب میں بھی بہت تھوڑے بتوں کو خدا سمجھتے تھے۔ اکثر ان کو شفیع اور حصول نجات کا وسیلہ خیال کرتے تھے۔ اس لئے ان کی عقیدت مندی خدا کے خلاف تو ہزار پہلواتوں کی متحمل ہوسکتی تھی مگر وہ بتوں کے خلاف ایک لفظ کے روادار نہ تھے۔

No comments yet

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.