میں جَلوں یا گَڑوں؟
ہمارے برادر اِسلامی ملک ملائیشیا سے پام کا تیل‘ مہاتیر محمد کے حُسنِ کارکردگی کی مثالیں اور جدید برقی آلات تو آیا ہی کرتے تھے۔ اب ایک دِلچسپ خبر بھی آگئی ہے۔ خبر کے مطابق پان ملائیشیا اِسلامک پارٹی (PAS) نے اپنے انتخابی امیدواروں سے ایک حلف لیا ہے۔حلف کی رُو سے اگر جماعت کا کوئی رُکن انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی جماعتی وفاداریاں تبدیل کرے گا تو اُ س کی بیوی کو طلاق پڑ جائے گی۔ ”پاس“ کے کارکنان کی بیویوں پر مذکورہ اورمشروط طلاقِ حلفی تو بعد میں پڑے گی۔ یہ افتاد پڑنے سے قبل ہی ملائیشیا کے سیاسی حلقوں میں ایک کھلبلی پڑگئی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیںبھی اِس حلف کوسخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں اور ملائیشین حکومت کی ایک خاتون وزیر محترمہ شریزت جلیل نے تو اِس حلف ہی کی شدید مذمّت کر ڈالی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کا غوغا سمجھ میں آتاہے کہ اِس حلف کے باعث اُنھیں حسبِ ضرورت بلکہ حسبِ حاجت اِسلامی لوٹے میسر نہ آسکیں گے۔ کیوں کہ جب بھی اِسلامک پارٹی کا کوئی رُکن لوٹا بننے کا خیال کرے گا‘ اُس کے اندر سے ایک حلف یافتہ نقیب آواز لگائے گا: ”با اَدب…. با ملاحظہ…. ہوشیار…. نکاح رُوبرو!“ مگر اﷲ جانے ”پاس“ کے ارکان کے اُٹھائے ہوئے حلف سے خاتون وزیر کو کیا خطرہ لاحق ہوگیا ہی؟ حکومتی جماعت کو انکوائری کروانی چاہیے۔ ٭٭٭ ہمارا خیال ہے کہ پان ملائیشیا اِسلامک پارٹی نے یہ حلف صرف اپنے منتخب ارکان کی جماعتی وفاداریاں محفوظ رکھنے کے لیے نہیں لیا ہے۔ اپنے منتخب ارکان کو اُ ن کی بیویوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی لیا ہے۔ ہم نے دیکھا ہی…. بلکہ آپ نے بھی دیکھا ہوگا…. دُنیا بھر میں اِسلامی جماعتوں کے اکثر ارکان کا وتیرہ ہے کہ منتخب ہوگئے تو دِن کو دِن سمجھا نہ رات کو رات۔ اپنے تمام اوقات اپنی جماعت کے سپر د کردیے۔ہمہ وقت خدمتِ خلق کے لیے وقف ہوگئے۔اِن ہمہ وقتی مصروفیات کے باعث اہلِ خانہ کے لیی…. دِن نکمّے اور راتیں کالیاں ہوتی گئیں….نتیجہ اِس کا یہ نکلا کہ…. ہوتے ہوتے مشتعل گھر والیاں ہوتی گئیں۔ آپ کو بھی معلوم ہی ہوگا کہ اشتعال میں کیا کیا ہوجاتاہے۔تو ایسے موقع پر مذکورہ حلف ایک ”بلٹ پر وف جیکٹ“ کا کام کرے گا۔ صاحب بڑی سے بڑی بات سُن کر بڑے سکون سے کہیں گی: ”غصہ نہ کرو بیگم…. اگرتُمھیں میری جماعتی سرگرمیاں اچھی نہیں لگتیں تو میں ابھی اسمبلی جاکر پارٹی بدل لیتا ہوں“۔ یہ سنتے ہی بیگم کا دِل دھک سے رہ جائے گا۔وہ پینترابدل کر جھٹ سے کہیں گی: ”نہیں نہیں‘ میاں!تُم بھی اچھے اورتُمھاری جماعتی سرگرمیاں بھی اچھی۔بس نصیبوں جلی تو میں ہوں جو….“ اِس فرضی ازدواجی مکالمے پر ہمیں ایک قصہ یاد آگیا۔ ٭٭٭ مگر قصہ سننے سے پہلے ہماری کچھ بقراطیاں سُن لیجیے۔ مسلم ممالک میں جب تک مغرب کے زیرِ اثر جمہوری معاشرہ نہیں پایا جاتاتھا‘ تب تک وفاداریاں بدلنے کا چلن بھی عام نہیں تھا ۔ ہمارے یہاں لوگ بیگمات کے معاملہ میں بھی اور جماعت کے معاملہ میں بھی ”یک درگیر و محکم گیر“ کے قائل تھے۔ (ایک ہی در کو تھامواور مضبوطی سے تھامو)۔مغربی معاشرے کے اثرات پڑنے سے پہلے لوگ بات بات پراور باربار بیگمات بدلتے نہ جماعت ۔ مسلمانوں کی جماعت کاکام تعمیر سیرت اور کردارسازی ہے۔ کردار کی طاقت سے افراد کی بھی اصلاح ہوجاتی ہے‘ اور طبقات کی بھی ۔ گاہے ایک ہی باکردار شخص کسی حکمران یا تمام حکمراں طبقات کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتاہے۔ اِسلامی جماعت کی اصل طاقت اُس کے کارکنان کا باکردار ہونا ہے۔ اگرباکردارہوں تو اِسلامی جماعت کے کارکنان کی وفاداری بشرطِ استواری کے لیے طلاق پر حلف برداری کی نوبت نہیں آتی۔ مگراب ہم مغرب کے رسم ورواج‘ قوانین وقواعد‘ نظام اور نظریہ کے باب میں خاصے لبرل اور روادار ہوگئے ہیں۔ کبھی ہمارے خیالات‘ نظریات اور حمایتوں کا پلڑا ایک طرف کو جھک جاتا ہے کبھی دوسری طرف کو۔ ہمارانصب العین اب صرف یہ رہ گیاہے کہ ہماری بابت مغرب کے سامنے ”نرمی کا تاثر“ یاSoft Image بن جائے۔ اِس نعمت کے حصول کے لیے ہم سب کچھ کرنے ہی کو نہیں‘ سب کچھ بھگتنے کو بھی تیا رہیں۔خواہ وہ ”لوٹوںکی اُمیدواری“ ہو یا انتخابی امیدواروں سے طلاق پر حلف برداری۔ ٭٭٭ ”تذکرہ غوثیہ“ میں ایک قصے کا ذکر آیا ہے۔ لب لباب اُس قصے کا یہ ہے کہ ایک گاؤں مسلمانوں کا تھا۔ وہاں کوئی ہندو آتا تو بہت تکلیف اُٹھاتا‘ کیوں کہ پورے گاؤں میں کوئی گھر کسی برہمن کا نہ تھا۔ گاؤں والوں نے اپنا Soft Image بنانے کے لیے طے کیا کہ ہمیں اپنے گاؤں میں ایک شخص کو برہمن بنادینا چاہیے تاکہ ہم ہنود کی نظروں میں Soft Image بنائیں۔اُن کے آگے عزت پائیں اور اُن کے یہاں ہم بھی اچھے کہلائیں۔ چناں چہ ایک روز ایک قصاب کو منتخب کرکے گاؤں کا برہمن بنادیاگیا۔پس اب جو بھی ہندو گاؤں آتا‘ اُس کے گھر ٹھہر جاتا۔ ایک دفعہ ایک پنڈت جی تشریف لائے۔ تین چاردِنوں کے بعد قصائن نے‘ جو اَب
برہمنی تھی‘ پنڈت جی سے بَوِستا یعنی فتویٰ پوچھا: ”مہاراج! میرے دوبالک ہیں۔ ایک کا نام خدابخش ہے‘ دوسرے کا گنگا رام۔ میں پہلے خدابخش کا ختنہ کرواوؤں یا گنگارام کو جنیﺅ پہناؤں؟ جیسی آپ کی آگّیا ہو ویساکروں“۔ پنڈت جی کا دماغ گھوم گیا۔بولی: ”بھاگ بھری(نیک بخت) تونے یہ کیا بات پوچھی؟ ہماری سمجھ تو کچھ کام نہیں کرتی۔ذرااِس سوال کی تشریح کر“۔ اُس نے تمام حال برہمن بننے کا سُنادیا۔کہا: ”خدابخش اُس وقت پیدا ہواتھا‘ جب ہم قصائی تھے۔اور گنگارام اُن دِنوں پیدا ہوا جب ہم برہمن بن گئے“۔ پنڈت جی یہ تشریح سُن کر بہت گھبرائے۔ کہنے لگی: ”اے بھاگ بھری! تیرا خدابخش بھی اچھا اور گنگارام بھی بہت خوب۔مگردھرم تو میرا نَشٹ ہوا۔ ماراتومیں گیا۔ اب تو مجھے آگّیا دے اور بتا کہ مارے جانے کے بعد میں(ہندوؤں کی طرح)جَلوں یا(مسلمانوں کی طرح)گَڑوں؟“
(روزنامہ جسارت سے ابو نثر صاحب)

بہت اچھے
آپ کو اور آپکے اہل خانہ کو نيا سال مبارک
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خیر مبارک اللہ اس سال کو ہمارے لیے باعث رحمت اور برکت بنائے آمین