گزارشِ احوال
گزارشِ احوال
اعترافِ عظمت کے لیے بھی باعظمت انسان ہونا ضروری ہے۔ میں نے مصر کی روایتی بڑھیا کی طرح یوسفؑ کی خریداری کا کئی بار عزم کیا۔ یعنی چاہا کہ ماہ عربؐ کی سیرت لکھوں لیکن مداح اور ممدوح میں ذرہ اور آفتاب کا فرق پاکر ہمت ہاردی۔
جب میں اس بار گرفتار ہو کر سنٹرل جیل میں آیا تو طبیعت نے تنہائی کا مشغلہ تلاش کرنا شروع کیا۔ ابھی کچھ فیصلہ نہ کرپایا تھا کہ میرا تبادلہ لاہور سے ملتان نیو سنٹرل جیل میں ہوگیا۔ چند ہی روز میں میری روح میں خوشگورا انقلاب پید اہوگیا۔ مجھے ایام اسیری یوں معلوم ہوئے گویا موسم بہار میں محروم محبت کے گھر میں محبوب اچانک آگیا ہو اور وہ استقبال کی خوشی اور دیدار کی مسرت میں اِدھر اُدھر پھر رہا ہو۔ انہی کیفیتوں میں ٗمیں نے جیل کے ساتھیوں مولانا حبیب الرحمٰن صاحب، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، مولانا مظہر علی صاحب اظہر اور مولانا عبد الرحمٰن نکودری کے ایماء پر اس کتاب کو شروع کیا ۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد میرا تبادلہ ملتان سے راولپنڈی جیل ہوگیا۔ قدرت کو منظور تھا کہ میں یہاں کے دوستوں کو چھوڑکر ایک غریب الوطن قیدی کا انیس تنہائی بنوں۔
راولپنڈی جیل میں ایک بم ساز اور بم بار بنگالی نوجوان ڈاکٹر بوس 57 سال کی لمبی قید کاٹ رہا تھا۔ وہ نوجوان تھا لیکن علم اور ایثار میں اپنا جواب آپ تھا ۔ وہ وطن عزیز کی غلامی کا ذکر جس جذبے سے کرتا تھا اس کی داد دینے کے لیے موزوں الفاظ نہیں ہیں۔ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات سے بڑا شغف تھا ۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر متعدد انگریزی کتابیں اس کے پاس ہر وقت موجود رہتی تھیں۔ مجھے اس کے ذخیرہ کتب سے بہت ہی فائدہ پہنچا۔ اس کے علاوہ سیرت النبیؐ مصنفہ شبلی نعمانیؒ ہر وقت پیش نظر رہی۔ عربی عبارتوں کے تراجم اسی کتاب سے ماخوذ ہیں۔
محبت ضابطوں کی پابند نہیں ہوتیٗ اور اکثر اوقات ادب واحترام کی حدود بے خبری میں نظر انداز ہوجاتی ہیں۔ میں نے شوق محبت کے باوجود انتخاب الفاظ میں احتیاط برتی ہے۔ اگر کہیں بے احتیاطی برتی گئی ہو تو اطلاع دی جائے تاکہ دوسری ایڈیشن میں تصحیح ہوسکے۔
افضل حق
جب میں اس بار گرفتار ہو کر سنٹرل جیل میں آیا تو طبیعت نے تنہائی کا مشغلہ تلاش کرنا شروع کیا۔ ابھی کچھ فیصلہ نہ کرپایا تھا کہ میرا تبادلہ لاہور سے ملتان نیو سنٹرل جیل میں ہوگیا۔ چند ہی روز میں میری روح میں خوشگورا انقلاب پید اہوگیا۔ مجھے ایام اسیری یوں معلوم ہوئے گویا موسم بہار میں محروم محبت کے گھر میں محبوب اچانک آگیا ہو اور وہ استقبال کی خوشی اور دیدار کی مسرت میں اِدھر اُدھر پھر رہا ہو۔ انہی کیفیتوں میں ٗمیں نے جیل کے ساتھیوں مولانا حبیب الرحمٰن صاحب، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، مولانا مظہر علی صاحب اظہر اور مولانا عبد الرحمٰن نکودری کے ایماء پر اس کتاب کو شروع کیا ۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد میرا تبادلہ ملتان سے راولپنڈی جیل ہوگیا۔ قدرت کو منظور تھا کہ میں یہاں کے دوستوں کو چھوڑکر ایک غریب الوطن قیدی کا انیس تنہائی بنوں۔
راولپنڈی جیل میں ایک بم ساز اور بم بار بنگالی نوجوان ڈاکٹر بوس 57 سال کی لمبی قید کاٹ رہا تھا۔ وہ نوجوان تھا لیکن علم اور ایثار میں اپنا جواب آپ تھا ۔ وہ وطن عزیز کی غلامی کا ذکر جس جذبے سے کرتا تھا اس کی داد دینے کے لیے موزوں الفاظ نہیں ہیں۔ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات سے بڑا شغف تھا ۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر متعدد انگریزی کتابیں اس کے پاس ہر وقت موجود رہتی تھیں۔ مجھے اس کے ذخیرہ کتب سے بہت ہی فائدہ پہنچا۔ اس کے علاوہ سیرت النبیؐ مصنفہ شبلی نعمانیؒ ہر وقت پیش نظر رہی۔ عربی عبارتوں کے تراجم اسی کتاب سے ماخوذ ہیں۔
محبت ضابطوں کی پابند نہیں ہوتیٗ اور اکثر اوقات ادب واحترام کی حدود بے خبری میں نظر انداز ہوجاتی ہیں۔ میں نے شوق محبت کے باوجود انتخاب الفاظ میں احتیاط برتی ہے۔ اگر کہیں بے احتیاطی برتی گئی ہو تو اطلاع دی جائے تاکہ دوسری ایڈیشن میں تصحیح ہوسکے۔
افضل حق
